نئی دہلی، یکم فروری (ایس او نیوز؍پی ٹی آئی ) تاریخی قرار دے کر نئے شہریت قانون کی ستائش کرتے ہوئے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ یہ مہاتما گاندھی کی ایک خواہش کی تکمیل ہے۔انہوں نے احتجاج کے نام پر کسی بھی قسم کے تشدد پر ناپسندیدگی ظاہر کی اور کہا کہ اس سے سماج اور ملک کمزور ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ ریمارکس ، متنازعہ قانون کے خلاف احتجاج کے دوران کئے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں صدر جمہوریہ نے جس وقت شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کی ستائش کی ، اپوزیشن ارکان احتجاج کررہے تھے۔ ان میں بعض شیم شیم کے نعرے لگارہے تھے۔صدر جمہوریہ نے پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کا مسئلہ بھی اٹھایا ۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی اور راجیہ سبھا میں پارٹی قائد غلام نبی آزاد، پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال میں پچھلی صفوں میں بیٹھے تھے حالانکہ انہیں اگلی نشستیں الاٹ ہوئی تھیں۔ انہوں نے شہریت قانون کےخلاف اپنا احتجاج درج کرانے پچھلی نشستوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
ہندی میں 70 منٹ کی تقریر میں صدر جمہوریہ نے نشاندہی کی کہ باہمی بات چیت اور تبادلہ خیال کرنے سے جمہوریت مستحکم ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دہے کو ہندوستان کا دہا اور موجودہ صدی کو ہندوستان کی صدی بنایا جائے۔ احتجاج کے نام پر کسی بھی قسم کا تشدد، سماج اور ملک کو کمزور کرتا ہے۔انہوں نے ملک بھر میں جاری سی اے اے احتجاج کا راست حوالہ دیئے بغیر یہ بات کہی ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان سبھی مذاہب کا مساوی احترام کرنے کے اصول کا قائل رہا ہے لیکن بٹوارہ کے وقت ہندوستان اور اس کے عوام کا یہی ایقان زد میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان کے ہندو اور سکھ جو وہاں نہ رہنا چاہتے ہوں ہندوستان آسکتے ہیں۔ حکومتِ ہند کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان کے لئے معمول کی زندگی یقینی بنائے۔ پاکستان میں اقلیتوں پر مظالم کے حوالہ سے صدر جمہوریہ نے حالیہ ننکا نہ صاحب واقعہ کا حوالہ دیا۔ پاکستان کے اس گردوارہ پر پچھلے ماہ ہجوم نے حملہ کردیا تھا۔ معاشی امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ ’’ بہتر کل ‘‘ کے لئے مقامی سطح پر تیار کردہ اشیا استعمال کریں۔ ہندوستان معیشت کی بنیادیں مضبوط ہیں اور بیرونی زر مبادلہ کے ذخائر بھی کافی ہیں۔
ایودھیا فیصلہ کے تعلق سے صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کے عوام نے جمہوری اداروں پر جو بھروسہ جتایا ہے اس سے ہماری جمہوریت کی بنیاد مستحکم ہوتی ہے۔ ملک کے شہریوں نے سپریم کورٹ کے ایودھیا فیصلہ کے بعد جس بالغ نظری کا مظاہر کیا وہ قابل ستائش ہے۔ ہندوستانی عوام خوش ہیں کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں مابقی ملک کے مساوی حقوق مل چکے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے عوام سے خواہش کی کہ وہ اپنے بنیادی فرائض یاد رکھیں۔